دل و جگر
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - ہمت، حوصلہ، جرات۔ ہو سامنے کون اس مژہ کے میرا ہی تو یہ دل و جگر تھا ( ١٧٨٤ء، درد، دیوان، ١١٦ )
اشتقاق
دو فارسی اسماء 'دِل' اور 'جگر' کے درمیان 'و' بطور حرف عطف لگا کر مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٨٤ء سے "دیوان درد" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر